Legend Muhammad Zeeshan Arshad

لیجنڈ آف اللہ

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ قبر میں فنا
اپنے حکم سے زندگی جسے دیتا ہے خدا

وہ کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے (لیجنڈری قرآن 10.100)

پڑھی لکھی جاہل مائیں

تحریر: لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

Date: August 18, 2019

معاشرے میں پڑھے لکھے جاہلوں کی کمی نہیں ہے ۔ ایسی بھی مائیں ہیں کہ پروفیشنل بن چکی ہیں ۔ باہر لوگوں میں میٹھی بنی پھرتی ہیں لیکن اپنے گھر وں میں بچوں کو ڈانٹ کر مار کر پڑھاتی ہیں۔

بچوں پر ظلم کرتی ہیں اور اگر بچوں کا باپ ایسی پڑھی لکھی بیوی کو روکنے کی کوشش کرے تو یہ پروفیشنل خواتین اپنے شوہر وں سے بدتمیزی سے پیش آتی ہیں۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ  ایسی عورتوں کی مائیں بھی اس جرم میں شامل ہوتی ہیں ۔ اپنی بیٹیوں سے نوکریاں کرواتی ہیں پھر انہیں شوہروں کے خلاف کان بھرتی ہیں اور مزیدبدمزاج بنادیتی ہیں۔

یہ پروفیشنل خواتین باہر جاب کرتی ہیں، نامحرم مردوں سے ہنسی ٹھٹے کرتی ہیں، ان کے ساتھ تنہا سفر کرتی ہیں، موبائل فون پر باتیں کرتی رہتی ہیں لیکن اپنے شوہروں سے بات کرنی پڑجائے تو انتہائی بدتمیزی سے پیش آتی ہیں، ان کی ذرا بھی عزت نہیں کرتیں لیکن دعوی شوہر سے محبت کا الاپتی ہیں  جو کہ سراسر دھوکہ اور جھوٹ ہوتا ہے۔

شوہروں کے ساتھ  مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی عورت کو اس لیے نہیں  چھوٹے کہ بچے خوار نہ ہوجائیں کیونکہ معاشرے کے لو گ انتہا کے جاہل ہیں اور ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ انسان کو قبر میں دفن کردیں۔وہ نہیں چاہتا کہ اپنی بیوی کو چھوڑے اور جب کوئی پوچھے کہ بچوں کا باپ کدھر ہے تو بچے اپنے باپ کے بغیر لوگوں کے طعنے سنیں۔موت آجانا ایک الگ بات ہے اس پر تو انسان صبر کرلیتا ہے لیکن زندگی میں خود ایسا فیصلہ کرنا مناسب نہیں لگتا۔

شوہر اپنا حق تو چھوڑ سکتا ہے کہ بیوی اس سے بدتمیزی کررہی ہے اور ذلیل کررہی ہے۔لیکن اپنے بچوں پر ہوتے ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ جس کی وجہ سےگھروں میں  اکثر تو تو میں میں رہتی ہے۔بات منہ ماری سے گالی گلوچ پر آجاتی ہے اور طلاق پر آکر ختم ہوجاتی ہے۔

ایسا عموما ان گھروں میں ذیادہ ہوتا ہے جہاں مرد گھر داماد بن کر رہتا ہے اور عورت کی ماں اس کے ساتھ رہتی ہے۔کیونکہ اپنی بیٹی کا گھر اجاڑنے میں سب سے زیادہ ہاتھ اس کی ماں کا ہی ہوتا ہے جو اس کے کان بھرتی رہتی ہے۔


Rightful Religion | Legendary Freelancer
Copyright © 2011 - 2022 All rights reserved.