Legend Muhammad Zeeshan Arshad

لیجنڈ آف اللہ

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ قبر میں فنا
اپنے حکم سے زندگی جسے دیتا ہے خدا

وہ کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے (لیجنڈری قرآن 10.100)

اکثر لوگ مل کر ایک مسئلہ حل کیوں نہیں کررہے

تحریر: لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

Date: May 30, 2017

ایک محلے میں کوئی مسئلہ پیدا ہوگیااور اسے حل کرنے کیلئے ہر گھر والے نے اپنا ایک گروپ بنالیا ۔ اس طرح مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا کیونکہ ہرگروپ کے سربراہ کی ساری کوشش اپنے گروپ کو سنبھالنے اور اپنے نام کا ڈنکا بجوانے پر صرف ہونے لگی اور پھر و ہ ایک دوسرے کے گروپ کے لوگوں کے خلاف طنز و تنقید، حسد و بغض اور الزام تراشی وغیرہ میں بھڑگئے۔اگر محلے کے تمام افراد صرف اس مسئلہ کو حل کرنے پر فوکس اور کوشش کرتے تو یقینا کامیاب ہوجاتے ۔ لیکن ایسا تب ہی ہوسکتا تھا جب کہ وہ لوگ مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ اور سو فیصد مخلص ہوتے اور اللہ کی رضا کیلئے کوشش کرتے۔

بالکل اسی طرح آج مسلمانوں کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے جن کی ایک طویل فہرست ہے لیکن   تمام مسائل کی اصل جڑ عالم کفر کا غلبہ ہے اور وہ مسلم ممالک کو تباہ کرتے رہتے ہیں اور مسلم حکمرانوں کو خرید کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کرتے رہتے ہیں لہذا اگر آج اسلام دنیا پر غالب ہوتا تو مسلمانوں کو اتنے مسائل کا سامنا نہ کرنا ہوتا ۔

اسلام کو غالب کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ ہر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور خصوصا علمائے کرام کی۔جسے اکثر مسلمانوں نے چھوڑ دیا اور اکثر علمائے کرام آپس میں فرقہ فرقہ ہوکر تقسیم در تقسیم ہوگئے۔ اور اب اصل مسئلہ کفر کو ختم کرنے کے بجائے  جس کا دل چاہتا ہے نئی نئی مزید جماعتیں تیار کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر جو کچھ ہوتا ہے اس کی مثال میں اوپر پیش کرچکا۔

اس لیے مسلمانوں کے اہم مسائل حل نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کا ساتھ اخلاص کے ساتھ نہیں دے رہے اسلام کو عالم کفر پر غالب کرنے کے لیے بلکہ آپس میں ہی نفرت ، دشمنی و عداوت میں ایک دوسرے کو اکھاڑ پچھاڑ کررہے ہیں۔ ان  اعمال کے پیچھے ان کی نفسانی خواہش کام کررہی ہے۔

جو بھی علیحدہ سے گروپ بندی کرتا ہے وہ اپنی چودہراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کی شہرت ہو، لوگ اسے جانیں اور اس کے زیر اثر رہ کر کام کریں۔اس کے کارنامے بیان ہوں۔ اس کی الگ پہچان بنے۔  اس کی واہ واہ ہو ۔ اس کی تعریف و توصیف ہو۔

آپ نے شاید پڑھا ہوگا کہ علما علما سے حسد کرتے ہیں۔ایسا صرف علما کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ میں انسان دوسرے انسان سے حسد و جلن میں مبتلا ہوجاتا ہے جو اس کی فیلڈ سے تعلق رکھتا ہے ۔

مثال کے طور پر مائیکل جیکسن ایک مشہور ڈانسرتھا لیکن اگر آپ کو ڈانس کا شوق نہ ہو تو آپ کے لیے مائکل جیکسن کی ویلیو زیرو کے برابر ہے۔آپ کو مائیکل جیکسن سے کبھی حسد، جلن اور عداوت پیدا نہ ہوگی۔ اس کی وجہ؟

جب آپ کو ڈانس سے رغبت ہی  نہیں تو آپ اس میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی کوشش ہی نہیں کریں گے ۔ نہ آپ میں ڈانس کی دنیا میں نام پیدا کرنے کا شوق پیدا ہوگا، نہ ہی اپنا گروپ بناکر اس میں واہ واہ سمیٹنے کا جذبہ ۔اور اس طرح دیگر تمام خرافات کا وجود ہی نہیں رہے گا۔لیکن جس دن آپ کو ڈانس سے رغبت پیدا ہوئی تو آپ فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لیے محنت کرنا شروع کریں گے تو وہی مائیکل جیکسن جو آپ کے لیے بے معنی تھا وہ آپ کے لیے پہلے ہوسکتا ہے انسپائریشن ہو لیکن بعد میں آپ کی نظروں میں  برا بھی بن سکتا ہے ۔وجہ؟

جب آپ اپنے آپ کو اس کے مقابلے پر نیچے دیکھیں گے تو آپ کے نفس کو یہ بات ہضم ہی نہ ہوگی کہ کوئی اس سے اوپر ہے ، شہرت کا حامل ہے اور لوگوں میں واہ واہ سمیٹ رہا ہے۔آپ کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی طرح مائیکل جیکسن کی طرح آپ بھی مشہور ہوجائیں اور لوگ آپ کو جانیں۔ آپ کے فین ہوں۔ آپ کو داد ملے۔ آپ کی باتوں کو سنا جائے ۔ مانا جائے۔ آپ کے ہنر پر تنقید کرنے والا آپ کو زہر لگے گا۔ آپ اس سے نفرت کریں گے۔

اس مثال کو آپ کسی بھی فیلڈ کے مطابق فٹ کرکے سمجھ جائیں کہ اکثر لوگ کیوں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے اور شخصیت پرستی کیوں کروائی جارہی ہے۔

آپ دیکھ لیں کہ لوگ اپنی فیلڈ کے دوسرے لوگوں پر تنقید کیوں کرتے ہیں اور دشمنی میں آگے تک کیوں چلے جاتے ہیں۔ اللہ جسے بچائے وہی نفس کے فتنہ سے بچ سکتا ہے ورنہ کتنے ہی لوگ اس کھائی میں گر کر ہلاکت میں پڑگئے۔

میں اپنی زندگی میں ذاتی طور پر اس تجربہ سے گزرچکا تب مجھے اس کی گہرائی سمجھ آئی کہ اکثر لوگ مسلم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کیوں اصل دین کا کام نہیں کررہے اور کیوں اپنی اپنی چودہراہٹ قائم رکھی جارہی ہے ۔

میرے تجربات کے مطابق جتنے بھی لوگ مجھے ملے ان سب میں ایک ہی بات مشترک تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ صرف ان کا نام مشہور ہو اور جیسا وہ سوچتے ہیں ویسے ہی تمام لوگ ان ہی کے حکم پر چلیں اور ان کا مقصد ہرگز اسلام کو دنیا کے تمام باطل ادیان و مذاہب پر غالب کرنا نہیں تھا۔

یہی وجہ ہے کہ معاشرہ تتر بتر ہوچکا ہے اور اکثر لوگ ابلیس کی غلامی کے زیر اثر کام کررہے ہیں۔ان کے دل و دماغ پر شیطان قابض ہوچکا ہے اور وہ دنیا کی محبت کے سبب اندھے، بہرے اور گونگے ہوچکے ہیں۔


Rightful Religion | Legendary Freelancer
Copyright © 2011 - 2022 All rights reserved.